ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امریکہ: صدارتی مباحثے میں 'میوٹ' بٹن پر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے تحفظات

امریکہ: صدارتی مباحثے میں 'میوٹ' بٹن پر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے تحفظات

Tue, 20 Oct 2020 16:50:56    S.O. News Service

 نیویارک،20؍اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل ری پبلکن جماعت کے امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے حریف ڈیموکریٹک پارٹی کے جو بائیڈن کے درمیان آخری مباحثہ جمعرات کو ہوگا جس کے قواعد میں تبدیلی کردی گئی ہے۔

مباحثے کے منتظمین نے کہا ہے کہ دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثے میں 'میوٹ' بٹن متعارف کرایا جائے گا جس کے نتیجے میں امیدوار کو بلا روک ٹوک بولنے کی اجازت ہو گی۔

اس سے قبل 29 ستمبر کو ہونے والے پہلے صدارتی مباحثے میں صدر ٹرمپ مسلسل جو بائیڈن اور مباحثے کے منتظم کی بات کاٹ رہے تھے جسے مباحثے کے اصولوں کے خلاف قرار دیا جا رہا تھا۔ ایک موقع پر صدر کے بار بار ٹوکنے سے تنگ آ کر جو بائیڈن نے انہیں 'شٹ اپ' بھی کہہ دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے مباحثے میں 'میوٹ' بٹن کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم مہم کے ذمہ داراین نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جمعرات کو ہونے والے مباحثے میں شرکت ضرور کریں گے۔

امریکہ میں صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثوں کی روایت کافی پرانی ہے جس کے تحت صدارتی انتخاب سے قبل دونوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان تین مباحثے ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان اب تک ایک مباحثہ ہوا ہے۔ دوسرا مباحثہ صدر ٹرمپ کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے آن لائن منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا تھا لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے ورچوئل مباحثے میں شرکت سے انکار کے باعث اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

تیسرے مباحثے میں دونوں امیدوار جمعرات کو ریاست ٹینیسی کے شہر نیشول میں آمنے سامنے ہوں گے۔

صدر کے امیدواروں کے درمیان مباحثوں کا انتظام کرنے والے کمیشن کا کہنا ہے کہ 15، 15 منٹ کے ہر سیشن کے دوران ابتدائی دو منٹ تک ایک امیدوار کا مائیک بند رہے گا تاکہ دوسرے امیدوار کو اپنی ابتدائی بات کہنے کا پورا موقع مل سکے۔

منتظمین کے مطابق دو منٹ کے بعد دونوں امیدواروں کے مائیک کھلے ہوں گے اور اس طرح مباحثے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینیجر بل اسٹیپئن نے کہا ہے کہ 'متعصب' کمیشن نے جو بائیڈن کو فائدہ پہنچانے کے لیے آخری وقت میں اپنے قواعد میں تبدیلی کر دی ہے لیکن اس کے باوجود صدر ٹرمپ جو بائیڈن سے بحث کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے مباحثے کے موضوعات کے انتخاب پر بھی ناراضی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ مباحثے میں خارجہ پالیسی کو زیادہ توجہ دینی چاہیے۔

پیر کو ریاست ایریزونا میں انتخابی جلسوں میں شرکت کے بعد واشنگٹن ڈی سی واپسی کے سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ "میں مباحثے میں ضرور شرکت کروں گا لیکن یہ انتہائی غیر منصفانہ ہے کہ منتظمین نے مباحثے کے موضوعات تبدیل کر دیے ہیں۔"

صدر ٹرمپ نے مباحثے کی میزبان پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں متعصب قرار دیا۔

یاد رہے کہ جمعرات کو ہونے والے صدارتی مباحثے میں 'این بی سی نیوز' سے وابستہ صحافی کرسٹن ویکر میزبان کے فرائض انجام دیں گی جو وائٹ ہاؤس کور کرتی رہی ہیں۔

دوسری جانب جو بائیڈن کی انتخابی مہم نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اُن کی حکمتِ عملی پر بات نہ کی جائے جب کہ سروے کہتے ہیں کہ یہ موضوع ووٹرز کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔


Share: